Muhabbat Ya Adat

محبت یا عادت

رات کسی پہر میری آنکھ کھلی تو عجیب سا احساس ہوا! اچانک سانس رکی تھی یا دل کی دھڑکن جیسے کسی نے بہت بھاری پتھر میرے سینے پرلا رکھا ہو مجھے تو ابھی دل کا کوئی عارضہ نہیں تو پھر ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے شاید بہت دیر سے بائیں جانب کروٹ لیے سوتا رہا ہوں اب مجھے کروٹ بدلنی چاہی

 ویسے بھی کروٹ نہ بدلنے کی وجہ بھی تو نہیں رہی۔ ایک بار پھر میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں؟ میں نے خود کو جھڑ کا، نہیں رہی ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسے کیسے جاسکتی ہے، مانا میں نے کبھی اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائیں مگر کیا ہم مشرقی لوگ شادی کرتے وقت غیرارادی طور پر اپنے دلوں میں ایسے ہی عہد و پیمان نہیں کر لیتے کسی کے سمجھائے بغیر ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانے پہنچانے بغیر ہی ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایسا میں نہیں، میری مرحوم اماں بی کہا کرتی تھیں جب شادی سے ایک رات پہلے میں نے ان کی گود میں منہ چھپا کر ڈرتے ڈرتے کہا تھا کہ۔ اماں بی بھلا میں کسی اجنبی عورت سے محبت کیسے کر سکتا ہوں جس کو بس ایک نظر دیکھا ہو جس کی آواز تک کی پہچان نہ ہوئی ہو، جس کی آہٹ کبھی محسوس نہ کی ہو ، جو خوشبو کون سی لگائی ہے وہ تک نہ معلوم ہو تو بھلا ایسے کسی کو کیسے دل دیا جاتا ہے؟ اور اماں بی نے ہمیشہ کی طرح کس قدر پیارسے سمجھایا تھا۔ محبت تم نہیں .
 وہ تم سے کرے گی اور تمہیں بس اس کی محبت کی عادت ہو جائے گی بیٹا ! عورت تو ہے ہی محبت ، سرتا پیر محبت مگر مرد، مرد زیادہ ترعادی ہوتا ہے۔ عورت کو معلوم ہے مرد کو عادی بنانا ہے۔ عقل مند عورت کبھی مرد کو محبت کرنے پر مجبور نہیں کرتی بس اپنی کا محبت کا عادی بنا دیتی ہے اور ہے اور مجھے اپنی بہو پر پر پورا پورا بھروسا ہے- تم زیادہ فکر نہ کرو، ایک دن تم آنکھ کھلو گے اور تمہیں لگے گا کہ بس آج سے تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تمہیں اس کے کھو جانے سے ڈر لگنے لگے گا۔ تم اس کی چھوٹی چھوٹی نادانیوں پر ہنسو گے۔ مذاق اڑاؤ گے اس کی بیوقوفیوں پر طنز بھی کرو گے مگر اس سے دور ہو جانے کا خیال ہی تمہیں بے چین کر دے گا۔ اماں بی کی 
باتوں سے مجھ میں چھپا ضدی مرد ابھر کر سامنے آگیا۔

ہونہہ! میں ایسا ویسا کوئی معمولی بندہ نہیں کہ ذرا سی عورت کی محبت کے جال میں پھنس جاؤں۔ اماں بی تو مجھے ابھی تک چھوٹا سا بچہ ہی سمجھتی ہیں۔ میں چھوٹا بچہ نہیں تھا پھر بھی کتنی دیر تک اماں بی کی گود میں منہ چھپائے پڑا رہا۔ اماں بی غلط کہہ رہی ہیں کہ مرد محبت نہیں کرتا صرف عادی ہوتا ہے۔ مجھے کسی قدر محبت ہے اماں بی سے۔ ہمیشہ سے تھی گو میں گھر میں تین بھائیوں اور ایک چھوٹی بہن کا سب سے بڑا بھائی ہوں اور ابا میاں کے گزر جانے کے بعد میں نے ہی کم عمری سے ابا میاں کی جگہ سنبھال لی اور گھر کا کاروبار اپنے کندھوں پر لاد لیا تو کیا یہ سب صرف عادی ہونے پر کیا ؟ نہیں میں محبت کرتا ہوں بھائیوں سے ننھی سی بہن سے اور سب سے بڑھ کر اپنی اماں بی سے، ایسا الزام کیسے لگا سکتی ہیں اماں بی ہم مردوں پر کہ مرد محبت نہیں کرتا ؟ میں چاہتا تو اماں بی کو باتوں میں گھیر سکتا تھا مگر میں اماں بی سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ کتنے دنوں بعد میری شادی کے سلسلے میں ہونے والے ہنگاموں میں دن رات مصروف ہو کر بھی بے حد مسرور تھیں۔ شاید ابا میاں کے بعد وہ پہلی بار اس قدر ہشاش بشاش تھیں تو اب میں ان کا مزاج برہم کیوں کرتا۔ میں کوئی گندا بچہ تھوڑی ہوں ۔ میں بچوں کی طرح کئی دوسری باتوں میں مگن اماں بی کی محبت و شفقت کا مزہ لیتا رہا تھا مگر دل ہی دل میں کہیں میرا خود سرمرد مکمل طور پر جاگ چکا تھا۔

خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا گھر کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا مگر پھر مطمئن ہو گیا۔ دونوں بچے تو شام سے ہی اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے تھے۔ چلو اچھا ہوا ورنہ میں بھلا ان کو کیسے سنبھالتا۔ یہ کام تو وہی کر سکتی ہے۔ مجھے تو ویسے بھی بچوں کو صاف ستھرا، مطمئن اور سکون سے بیٹھا دیکھنے کی عادت ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بغیر بچوں کے ساتھ وقت گزاروں، کسی نامناسب بات پر ان کو جھڑکوں وہ ہوتی ہے تو میرے سامنے پتا نہیں کیسے دونوں بہت ہی شرارتی بچے مکمل طور پر ادب کے دائرے میں رہتے ہیں، مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ باپ کی ہزار ہا شفقت و محبت کے باوجود کس طرح ماں بچوں کے دلوں میں باپ کے لیے بے انتہا ادب ڈال دیتی ہے جیسے کوئی مالی بیج کو پانی دیتے دیتے تناور درخت بنا لیتا ہے تو اچھا ہی ہے سو بچے اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے۔ یہ ہدایات بھی اسی نے دی ہوں گی۔ وہ نہ ہو کر بھی موجود ہے۔

میں نے سوچتے سوچتے کروٹ سوچنے کروٹ بدلی اور بستر کے دوسری جانب سپاٹ خالی جگہ نے مجھے مکمل طور پر بیدار کر دیا- پتا نہیں کیوں شادی کے گزرے آٹھ سالوں میں تقریبا ہر رات میں نے اس کی جانب کروٹ لے کر سونے میں قباحت محسوس کی۔ مجھے کس بات کا خوف رہا تھا، شاید اس بات کا کہ کہیں وہ جاگتی نہ ہو جیسا کہ وہ اکثر ہی جاگی رہتی تھی اور پھر میری اس کے چہرے پر نظر پڑی، ہم دونوں کی آنکھیں ملیں ، کمرے کے اندھیرے میں بھی اس کے چہرے کو دیکھنے سے اجتناب کرتا تھا اور آج رات جبکہ وہ میرے برابر میں نہیں تھی تو پورے بستر پر پھیل کر سونے کے بجائے اس کے حصے کی صاف ستھری چادر کی سلوٹ خراب ہونے کے ڈر سے کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ میں ایسا کیوں کرتا رہا تھا ۔ پتا نہیں میں یہ آج کسی قسم کی باتوں میں الجھتا چلا جا رہا ہوں۔ میں نے ایک بار پھر خود کو جھڑکا اور باورچی خانے جا کر پانی پینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ باورچی خانے میں ہر طرف شام سے گھر میں ہر طرح کے آنے جانے والوں کے کھانے پینے کے آثار نمایاں تھے۔ اچانک میں مسکرا گیا ایک یا ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہی میرا سات سالہ بڑا بیٹا اسکول جانے کے لیے تیار اپنی وین کا انتظار کرنے کے دوران اپنی ماں سے بیسن یا سینک کا اردو میں ترجمہ پوچھ رہا تھا، اتفاق سے اس وقت میں بھی باورچی خانے کے ایک کونے پر رکھی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا سامنے رکھی میز پر اخبار پھیلائے ناشتے کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹے کی بات پر میں متوجہ ہوا ہی تھا کہ اس نے اپنی دھیمی اور نرم آواز میں بیٹے کو ترجمہ بتا دیا۔ واش بیسن یا سینک کو اردو میں سلفچی کہتے ہیں۔

جب یہ لفظ ، سلفچی ، مجھ جیسے اردو کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کیے آدمی کی سمجھ میں نہ آسکا تو بیٹا تو بہت چھوٹا تھا۔ اور آج کل کے بچوں کی طرح اردو بول چال سے دور بھی۔ کیا سیلفی چی؟ بیٹے نے حیران ہو کر ماں کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے پوچھا۔ وہ توے سے پراٹھا اتار کر پلیٹ میں رکھے میری ہی طرف آ رہی تھی۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں تلے ہوئے انڈے کی پلیٹ تھی۔ بیٹے کی بات پر نجانے کیوں وہ تیزی سے چلتے ہوئے ٹھٹک کر رکی، ہم دونوں کی نظریں ملیں اور بے اختیار ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔ اور اس ایک بات پر میں پورا دن خود سے کس قدر ناراض رہا تھا۔ بھلا مجھے ایسے ذراسی بات پر اس کے بنسنے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہی کیا تھی، ویسے بھی بیٹے کی طرح تو مجھے بھی سلفچی کچھ خاص سمجھ میں نہ آسکا تھا تو پھر میں یوں ہی اپنے اخبار کی طرف متوجہ رہتا۔

atOptions = { 'key' : '726262874147f12d814a196895b5b288', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} }; document.write('');
ایک بار پھر سر جھٹک کر میں نے پلٹ کر سلفچی کو دیکھا۔ اس میں گندے برتن کا ڈھیر تھے۔ آج شام سے میری چھوٹی بہن نے ہی گھر سنبھالا ہوا تھا۔ بچے اسکول سے واپس آئے توان کو پرسکون رکھنا، گھر میں آنے والوں کو چائے پانی دینا دلانا، یوں تو میرے بھائیوں کی بیویاں بھی موجود تھیں مگر خود بخود جیسے پورے گھر کی باگ دوڑ میری چھوٹی بہن نے سنبھال لی تھی۔ میں جانتا تھا ایک میں ہی کیا سب ہی پریشان تھے پھر بھی میں یہی امید کر رہا تھا کہ چھوٹی بہن باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ دل تو چاہا رات کہ اس پہر چھوٹی بہن کو اور بھائیوں کی بیویوں کو فون لگا کر کھری کھری سنا ڈالوں … کیوں بھئی کبھی دیکھا میرے گھر کا باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا بے ہنگم اور گندا اور یہ پانی کی ٹھنڈی بوتلیں نکالی تھیں تو بھرکر واپس بھی نہ رکھی گئیں۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ پیچھے بھی لوگ آسکتے ہیں تو کیا اب آنے والوں کو اس گرمی میں ٹھنڈا پانی بھی نہ ملے یعنی میرے گھر میں کوئی آئے اور اس طرح پیاسا رہے- گندے برتن دھونے تو دور کی بات سمیٹ کر بھی نہیں رکھے گئے جس نے جو چاہا فریج سے نکال کر کھایا پیا اور بقایا میز پرھی چھوڑ کر چلتا بن،ا کیا جا سکتا ہے تم سب کی عادت ہی بگڑی ہوئی ہے۔ میرے گھر میں آ کر تو تم سب کو یاد ہی نہیں رہتا کہ انسان کے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کے کچھ آداب ہوتے ہیں- یہ بار بار میرا گھر ، میرا گھر کیا لگا رکھا ہے کسی نے چپکے سے میرے کان میں کہا یہ جو تم اس قدر ترائے ہوئے سب کو میرا گھر میرا گھر کہہ کر شرمسار کرنے کا سوچ رہے ہو تو کبھی سوچا کہ اگر وہ اس گھر میں ہردم چلی پھرتی محنت مشقت کرتی کونے کونے کی دیکھ بھال نہ کرتی ہوتی تو کیا فقط ان چار دیواروں کو تم میرا گھر کہہ سکتے تھے؟ سچ بات ہے دنیا کا دستور یہی ہے محنت کسی کی اور شاباش کوئی اور سمیٹتا ہے۔ چھوٹی بہن یقینا بھول گئی تھی۔ شاید اسے یادہی نہیں رہا ہو کہ آج کی رات میں نے خود کو اس کی کمی کو محسوس کرتے سوچ کر جلدی سے اپنی توجہ باورچی خانے کی حالت زار پر مرکوز کی۔ ٹھنڈے پانی کے لیے فریج کھولا تو پانی کی ایک بھی بوتل نہ ملی بلکہ شادی کے بعد سے آج پہلی بار مجھے اپنے گھر کا فریج کھول کر بھی اجنبیت کا احساس ہوا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ میں نے فریج کھولا ہو اور گھر پر بنے انواع و اقسام کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا ہوا نہ ہو۔

بجے تو ہمارے دو ہی تھے میں بھی دن بھر آفس میں رہتا مگر ہمارے گھر مہمان بہت آتے تھے اور مہانوں کا اکرام کرنا وہ خوب جانتی تھی اور اچانک آنے والی رحمت کو یہ بھی اپنی مہمان داری سے مایوس ہونے نہیں دیتی تھی۔ ہوتے ہیں دی گی۔ برکت خود ہی عود آتی۔ اس نے کبھی گھر کے خرچے کو بڑھانے کا نہیں کہا۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی کہ کسی طرح وہ میری محدود آمدنی میں بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے اخراجات بھی سنبھال رہی تھی مگر میں اپنی حیرت اپنے تک ہی محدود رکھتا۔ اس سے بلاوجہ بات چھیڑنا اور بات سے بات نکال کر باتیں کرنا مجھے کبھی نہیں بھایا۔ اس نے بھی مجھے بھی تنگ نہیں کیا اس کی مصروفیات ہی اس قدر ہوتی تھیں۔ گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا ، استری کرنا بچوں کو پڑھانا ، مہمانوں کے آنے پر ان کی خاطر داری، وہ ہر وقت ایک مشین سی بنی پورے گھر میں دوڑتی پھرتی تھی۔ ہمارا پرانی طرز کا ایک سو بیس گز پر بنا آبائی گھر کا کوئی کونا ایسا نہ تھا جہاں اس کی موجودگی محسوس نہ کی جا سکتی ہو- وہ ہر جگہ ہر وقت ہر طرف اپنے سلیقے اور محنت کی نشانی چھوڑ جاتی تھی اور میں چاہ کر بھی اس سے ناراضی کا کوئی بہانہ ڈھونڈ نہیں پاتا تھا۔ میرے بھائی بہن ان کے بچے میرے بوڑھے جوان رشته دار دوست احباب ان کی بیویاں ، بیٹیاں مائیں سب کے سب اس کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ اس کی خوش مزاجی اور مہمان نوازی کے چرچے تھے ہمیں بہت ذوق و شوق سے محفلوں میں بلایا جاتا تھا غم و خوشی میں ہمیں شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا اور میں جانتا تھا کہ یہ سب اس کی ہی خوش اخلاقی کی بدولت تھا مگر مانتا کہاں تھا۔

Comments