Posts

Showing posts from December, 2023

Kamil Emaan

Image
 تمہارے دلہا بھائی کا بس چلے تو ہر وقت رعب ہی چلاتے رہیں مجھ پر یہ کرو، وہ کرو یہ نہ کرو ہونہہ ۔ پندرہ سالہ مریم کے ہاتھ جو نوٹ بک پہ تیزی سے کچھ لکھنے میں مگن تھے بڑی بہن کے تلخ لہجے میں کی گئی شکایت یا پھر بھڑاس پہ تھم گئے۔ جبکہ بڑی بہن صاحبہ اپنی کہہ کر گنگناتی ہوئی نائٹ کریم سے پیروں سے مساج کرنے میں مگن ہوئیں۔ کمرے کے باہر سے گزرتی صفیہ بیگم کے کانوں میں واضح طور پر رمشا کے الفاظ پڑے تھے۔ جب ہی وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ مریم تمہارا کام ہو گیا کیا جو گپیں لڑا رہی ہو اور رمشا تم ۔  رمشا کو قہر برسانی نگاہوں کی زد میں لیا۔ ذرا میرے ساتھ آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ کہہ کر وہ تیزی سے چلی گئیں جبکہ رمشا کا مساج کرتا ہاتھ رک گیا۔ مجھ سے کیا کام بھلا ابھی تو ڈیڑھ گھنٹا بیٹھ کر آرہی ہوں۔ بڑبڑاتے ہوئے سلیپرز میں پاؤں گھسائے اور انہیں ڈھونڈتی ہوئی باہر لان میں چلی آئی۔ صفیہ بیگم کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھیں اور سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم لگ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر ماتھے پہ شکنیں دوبارہ سے لوٹ آئیں۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے برابر بٹھایا، ایسے کہ رمشا کی چیخ نکل کر رہ گئی۔...

Billu Bhai Ka Bakra

Image
  بلو بھاہی کا بکرا گڈو نے گھر میں داخل ہونے سے پہلے احتیاطاً دروازے کی کیدرز سے جھانکا اور یہ دیکھ کر، دل نے صدمے سے ایک غوطہ کھایا کہ اماں جان سامنے برآمدے میں پلنگ پر تشریف فرما تھیں۔ حالانکہ اس وقت تو وہ دو پہر کی ہانڈی روٹی نمٹا کر ، آرام فرمارہی ہوتی تھیں مگر آج سکون سے بیٹھی ، کیریاں چھیل رہی تھیں ۔  غالباً ابا جان نے آم کی چٹنی کی فرمائش کی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ ان کی عقابی نظروں سے بچ کر اپنے کمرے تک کیسے جائے۔ سارا دن دوستوں کے ساتھ مٹر گشتی کرنے کے بعد، آتے ہوئے بلو بھیا کی فرمائش پر ، ان کی منگیتر صاحبہ کے گھر سے ہو کر آیا تھا اور منگیتر صاحبہ نے حسب عادت ان کے لیے ایک بڑا سا گفٹ پیک تھما دیا تھا۔ جبکہ اماں جان دوران منگنی اس قسم کے تحفے تحالف کے تبادلے کے سخت خلاف تھیں۔ اب جب وہ ان کے سامنے سے گزرتا تو وہ ضرور اس پیکٹ کا پوسٹ مارٹم کرتیں۔ اب منگیتر صاحبہ نے.  خالی خولی تحفے پر اکتفا نہیں کیا ہوگا۔ لازمأ اندر سے مہکتا ہوا ایک محبت نامہ بھی برآمد ہوتا ۔ اس لیے بلو بھیا کی مٹی پلید کروانے سے بہتر تھا کہ وہ مطلع صاف ہونے کا انتظار کرتا رہے۔ مگر آخر کب تک ! گھر...

Muhabbat Ya Adat

Image
محبت یا عادت رات کسی پہر میری آنکھ کھلی تو عجیب سا احساس ہوا! اچانک سانس رکی تھی یا دل کی دھڑکن جیسے کسی نے بہت بھاری پتھر میرے سینے پرلا رکھا ہو مجھے تو ابھی دل کا کوئی عارضہ نہیں تو پھر ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے شاید بہت دیر سے بائیں جانب کروٹ لیے سوتا رہا ہوں اب مجھے کروٹ بدلنی چاہی  ویسے بھی کروٹ نہ بدلنے کی وجہ بھی تو نہیں رہی۔ ایک بار پھر میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں؟ میں نے خود کو جھڑ کا، نہیں رہی ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسے کیسے جاسکتی ہے، مانا میں نے کبھی اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائیں مگر کیا ہم مشرقی لوگ شادی کرتے وقت غیرارادی طور پر اپنے دلوں میں ایسے ہی عہد و پیمان نہیں کر لیتے کسی کے سمجھائے بغیر ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانے پہنچانے بغیر ہی ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایسا میں نہیں، میری مرحوم اماں بی کہا کرتی تھیں جب شادی سے ایک رات پہلے میں نے ان کی گود میں منہ چھپا کر ڈرتے ڈرتے کہا تھا کہ۔ اماں بی بھلا میں کسی اجنبی عورت سے محبت کیسے کر سکتا ہوں جس کو بس ایک نظر دیکھا ہو جس کی آواز تک کی پہچان نہ ہو...